How to pay off Pakistan's debt

ADIL MALKO TV

ایک معروف صحافی  کی جانب سے پاکستان کا قرضہ اتارنے کے لئے پاکستان کی حکومت کو مفید

 مشورہ ان کا کھنا تھا کہ یہ قرضہ اتارنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل ہے

لیکن یہ حکمران خود نہیں چاہتے کہ قرضہ اترے

آسان سی پالیسی ھے تحریر مکمل پڑھیں پھر آپکو پتہ چلے گا

 

https://thealoeveraco.shop/kedByro9

17 گریڈ کے افسران, ججز , وزراء ,مشیر, ڈپٹی کمشنرز,اسسٹنٹ کمشنرز, ڈی پی اوز, ڈی ایس پیز

 ایس ایچ اوز, ڈسٹرکٹ آفیسرز, سی ای اوز, ڈی ای اوز, کالجز کے پروفیسرز

سکولز کے ہیڈ ماسٹرز, پیف والے پرائیویٹ سکولز مالکان

 پراپرٹی ڈیلرز, تحصیلدار, پٹواری, بزنس مین, فوجی افسران, خفیہ اداروں کے افسران

 فیکٹریوں کے مالکان, ملز مالکان, بڑے سرمایہ داران, آڑھتی , تاجران

 تیس چالیس ایکڑ سے زیادہ اراضی والے زمینداران, سب کو ملا کر تعداد گنی جائے

تو دو کروڑ آرام سے بن جائیں گے

ان سب سے گورنمنٹ کا بیس بیس ہزاربطورقرض لینا معمولی سی بات ہے

 جو کہ چار کھرب ماہانہ بنتا ہے

اسکے بعد

297 پنجاب کے ایم پی ایز

130سندھ کے ایم پی ایز

124کے پی کے ایم پی ایز

65بلوچستان کے ایم پی ایز

336ایم این ایز

کل 965 اقتدار میں موجود سیاسی شخصیات ہیں جن سے صرف پانچ پانچ کروڑ فی کس لیا جانا عام سی بات ہے

 تویہ پچاس ارب بنتا ہے

اسکے بعد

ایک کروڑ ملک بھر کے سرکاری ملازمین تو ہوں گے جن سے صرف دو ہزارماہانہ لیا جائے

 تو ماہانہ بیس ارب بنتا ہے

 

بیس ہزار سے زائد انکم والے پرائیوٹ ملازمین کم ازکم تو پانچ کروڑ ہونگے جن سے صرف

 پانچ سو روپے ماہانہ قرض لیا جائے جو کہ پچیس ارب بنتا ہے

کل تقریبا پانچ کھرب ہو گیا. اور گورنمنٹ اپنے بجٹ میں سے اپنے ریونیو میں سے ایک کھرب

 ڈالے کل چھ کھرب روپے یعنی کہ تقریباً 34ارب ڈالر بنتا ہے

فرض کیا پاکستان پر مجموعی طور پرسو ارب ڈالر قرضہ ہو تو تین ماہ کی

 قلیل مدت جولائی تا ستمبر میں قرضہ اُن کے منہ پر مارا جاسکتا ہےاور اسی پالیسی کے تحت

 اگلے تین ماہ اکتوبر تا دسمبر میں ہم آئی ایم ایف کو کہہ سکتے ہیں جتنا تم نے قرضہ دیا تھا اب اتنا ہم سے لے سکتے ہوں

 اور اگر یہ ہی اکتوبر تا دسمبر کااتنابڑا ریونیو پاکستان اپنے دفاع ریلوے سڑکوں پی آئی اے

اور دیگر اداروں پر لگا دے تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے. صرف چھ ماہ میں

 مہنگائی کا تو نام ونشان ہی مٹ جائے گا انشا اللہ

 

پھر ان اداروں سے جو ریونیو آئے گا وہ اوپر بیان کردہ جس جس پاکستانی

سے رقوم بطور قرض وصول کی گئی ہونگی انکو واپس لوٹانے کا سلسہ شروع کیا جائے

 اور دو تین سال میں آرام سے واپس ہو جائے گا

یاد رہے میں کوئی معیشت دان نہیں ایک عام پاکستانی ہوں 

 

Post a Comment

0 Comments