ADIL MALKO Tv
زندہ جب کسی سہ کی طلب کرتی ہے۔زندہ جب کسی سہ کی طلب کرتی ہے تو میری ہوتو پر تیرا
نام اجتا ہے
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے
اس شعر میں علامہ اقبال صداقت (سچائی) کے لیے
قربانی اور حقیقی جدوجہد کا معیار بیان کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے دل میں سچائی کے لیے مر مٹنے کی تڑپ موجود ہے
یعنی وہ حق اور اصولوں کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہے
تو سب سے پہلے اُسے اپنے اندر وہ روح، وہ قوت، وہ حرارت پیدا کرنی چاہیے
جو اُسے اس بلند مقام کے قابل بنائے۔
"پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے"
سے مراد ہے کہ انسان محض جسمانی وجود نہیں
بلکہ اُس کے اندر ایک زندہ، باشعور اور باہمت روح بھی ہونی چاہیے۔
اقبال چاہتے ہیں کہ انسان محض دعووں سے آگے بڑھے، اور پہلے اپنے وجود کو بیدار کرے
ایسی روحانی اور اخلاقی طاقت پیدا کرے جو سچ کے لیے قربانی دینے کے قابل ہو۔
یہ شعر ہمیں خودی، عمل، اور باطنی بیداری کی دعوت دیتا ہے۔
اقبال کا کہنا ہے کہ
سچائی کے میدان میں اترنے سے پہلے انسان کو اپنی شخصیت کو اس درجے پر لانا ہوگا
جہاں وہ قربانی استقلال اور حق گوئی کے تقاضے پورے کر سکے۔
صرف جذبہ کافی نہیں، عمل اور خود سازی بھی ضروری ہے۔
نظم: خضرِ راہ
کتاب: بانگِ درا


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.