ADILMALKOTV
آپ نےکبھی سوچا ہےکہ زمین پر کل کتنا پانی اور کتنی ہوا موجود ہے
سیارہ زمین پر مجموعی طور پر پانی فضا صرف اتنے سی ہیں جتنا منسلک کی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے
اکثر ہمیں یہ بات سننے پڑھنے کو ملتی ہے کہ زمین کے70فیصد حصہ پانی پر ہے
جس سے تقریباً ہر انسان کے ذہن میں یہ غلط تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید پوری زمین کا 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوگا
جبکہ یہ تصور درست نہیں ہے
حقیقت یہ ہےکہ سمندرزمین کی بیرونی سطح کے70 فیصدحصے پر پھیلے ہوئے ہیں
لیکن پوری زمین کے حجم وکمیت کے مقابلے میں سمندروں کے پانی کی کل مقدار کچھ بھی نہیں
زمین پرسمندروں کی اوسط گہرائی 4کلومیٹر ہے
جبکہ زمین کا قطر 12756 کلومیٹرز ہے سادہ الفاظ میں سمندروں کی اوسط گہرائی
زمین کے قطر کا صرف 0.03 فیصد ہے اگر سمندروں کےساتھ ساتھ دیگر آبی ذخائر
مثلاً دریا، جھیلوں، گلیشئرز اور آبی بخارات وغیرہ یعنی زمین پرتمام شکلوں میں موجود پانی کے ہر
قطرے کو جمع کرکے ایک گیند بنائی
جائے تو ایسی گیند کا قطر صرف 1400 کلومیٹرز بنے گا یا کہا جا سکتا ہے
کہ زمین کےتمام سمندروں کا پانی اگر اکٹھا کر کے ایک غبارے مین بھرا جائے
تو یہ کراچی سے اسلام آباد تک کے فاصلے جتنے غبارے میں سما جائے گا
اسی طرح زمین کی ہوا یا فضا بظاہر ہمیں تا حد نظر پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے
جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شایدزمین پرہوا یافضا ناقابل بیان حدتک زیادہ ہوگی
لیکن یہ بات غور کرنے کے قابل ہے کہ زمین کی 90 فیصد فضا سطح زمین سےصرف 15 کلومیٹر کی بلندی تک موجود ہے
جیسے جیسے سطح زمین سے اوپر جاتے جائیں، فضا نحیف تر ہوتی جاتی ہے
اور یہاں تک کہ سطح زمین سے100 کلومیٹرکے فاصلے پر زمینی فضا اتنی باریک رہ جاتی ہے
کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے۔ سطح زمین سے 100 کلومیٹرز کی اونچائی کو خلاء کا آغاز مانا جاتا ہے
جسے کارمان لائن کا نام دیا جاتا ہے اور یہ بلندی زمین کے قطر کا محض 0.8 فیصد کے قریب بنتی ہے
روزمرہ کی مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں تو زمین کے ارد گرد کرہ فضائی کی موٹائی محض اتنی ہے
جتنا ایک سیب پر اس کا چھلکا ہوتا ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق زمین پر موجود تمام فضا کی کمیت اس میں شامل آبی بخارات سمیت تقریباً 5 کواڈریلین ٹن ہے
جو کہ زمین کی کل کمیت کا دس لاکھواں حصہ بھی نہیں بنتا
مندرجہ بالا اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر موجودہ پانی اور ہوا کی مقدار اور مجموعی حجم زمین کی کل کمیت
اور حجم کے موازنے میں کچھ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں
اس موازنے کی تقریباً درست نمائندگی نیچے دی گئی تصویر میں ظاہر کی گئی ہے
یہ بات بالکل درست ہے
کہ زمین کا 70 فیصد رقبہ پانی سے ڈھکا ہوا ضرور ہے
لیکن اس کا مطلب یہ
نہیں کہ زمین کی پوری کمیت یا حجم کا 70 فیصد پانی پر مشتمل ہے درحقیقت سمندر
زمین کی
بیرونی سطح پر ایک
باریک سی تہہ کی مانند موجود ہیں جن کی اوسط گہرائی تقریباً 4 کلومیٹر ہے
جبکہ
زمین کا قطر تقریباً 12,756 کلومیٹر
اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ پانی زمین
کے مقابلے میں بہت معمولی مقدار میں ہے
اگر زمین پر موجود تمام پانی کو اکٹھا کر
کے ایک گیند کی صورت میں دکھایا جائے
تو اس کا قطر تقریباً 1400 کلومیٹرز ہی بنتا
ہے
جو زمین کے سائز کے سامنے ایک چھوٹے غبارے جیسا دکھائی دیتا ہے
اسی طرح زمین کی فضا
بھی ایک نہایت باریک تہہ ہے جو ہمیں بڑی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں زمین سے
محض 100
کلومیٹر کی بلندی تک ہی پھیلی ہوتی ہے اور اس کی 90 فیصد مقدار تو صرف 15
کلومیٹر کے اندر موجود ہوتی ہے
زمین کے کل حجم کے لحاظ
سے، فضا کی موٹائی اتنی ہی ہے جتنی ایک سیب پر اس کا چھلکا فضا کی کل کمیت زمین
کی مجموعی
کمیت کا نہایت قلیل حصہ ہے، تقریباً ایک دس لاکھواں
لہٰذا یہ کہنا بالکل
بجا ہے کہ زمین پر موجود پانی اور فضا، جو بظاہر بہت زیادہ محسوس ہوتے ہیں
حقیقت
میں زمین کی مجموعی کمیت
کے مقابلے میں نہایت محدود اور نازک ہیں
اسی لیے ان
قدرتی وسائل کی حفاظت اور قدر کرنا انسانیت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے
0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.