You ever wondered how much water & air there is on Earth?

ADILMALKOTV

www.adilmalkotv.blogspot.com/

آپ نےکبھی سوچا ہےکہ زمین پر کل کتنا پانی اور کتنی ہوا موجود ہے

سیارہ زمین پر مجموعی طور پر پانی فضا صرف اتنے سی ہیں جتنا منسلک کی گئی تصویر میں دکھایا گیا ہے

اکثر ہمیں یہ بات سننے پڑھنے کو ملتی ہے کہ زمین کے70فیصد حصہ پانی پر ہے

جس سے تقریباً ہر انسان کے ذہن میں یہ غلط تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید پوری زمین کا 70 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوگا

جبکہ یہ تصور درست نہیں ہے

حقیقت یہ ہےکہ سمندرزمین کی بیرونی سطح کے70 فیصدحصے پر پھیلے ہوئے ہیں

لیکن پوری زمین کے حجم وکمیت کے مقابلے میں سمندروں کے پانی کی کل مقدار کچھ بھی نہیں

زمین پرسمندروں کی اوسط گہرائی 4کلومیٹر ہے

جبکہ زمین کا قطر 12756 کلومیٹرز ہے سادہ الفاظ میں سمندروں کی اوسط گہرائی

زمین کے قطر کا صرف 0.03 فیصد ہے اگر سمندروں کےساتھ ساتھ دیگر آبی ذخائر

مثلاً دریا، جھیلوں، گلیشئرز اور آبی بخارات وغیرہ یعنی زمین پرتمام شکلوں میں موجود پانی کے ہر

قطرے کو جمع کرکے ایک گیند بنائی

جائے تو ایسی گیند کا قطر صرف 1400 کلومیٹرز بنے گا یا کہا جا سکتا ہے

کہ زمین کےتمام سمندروں کا پانی اگر اکٹھا کر کے ایک غبارے مین بھرا جائے

تو یہ کراچی سے اسلام آباد تک کے فاصلے جتنے غبارے میں سما جائے گا

اسی طرح زمین کی ہوا یا فضا بظاہر ہمیں تا حد نظر پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے

جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شایدزمین پرہوا یافضا ناقابل بیان حدتک زیادہ ہوگی

لیکن یہ بات غور کرنے کے قابل ہے کہ زمین کی 90 فیصد فضا سطح زمین سےصرف 15 کلومیٹر کی بلندی تک موجود ہے

جیسے جیسے سطح زمین سے اوپر جاتے جائیں، فضا نحیف تر ہوتی جاتی ہے

اور یہاں تک کہ سطح زمین سے100 کلومیٹرکے فاصلے پر زمینی فضا اتنی باریک رہ جاتی ہے

کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہوتا ہے۔ سطح زمین سے 100 کلومیٹرز کی اونچائی کو خلاء کا آغاز مانا جاتا ہے

جسے کارمان لائن کا نام دیا جاتا ہے اور یہ بلندی زمین کے قطر کا محض 0.8 فیصد کے قریب بنتی ہے

روزمرہ کی مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں تو زمین کے ارد گرد کرہ فضائی کی موٹائی محض اتنی ہے

جتنا ایک سیب پر اس کا چھلکا ہوتا ہے

ایک محتاط اندازے کے مطابق زمین پر موجود تمام فضا کی کمیت اس میں شامل آبی بخارات سمیت تقریباً 5 کواڈریلین ٹن ہے

جو کہ زمین کی کل کمیت کا دس لاکھواں حصہ بھی نہیں بنتا

مندرجہ بالا اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر موجودہ پانی اور ہوا کی مقدار اور مجموعی حجم زمین کی کل کمیت


اور حجم کے موازنے میں کچھ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں

اس موازنے کی تقریباً درست نمائندگی نیچے دی گئی تصویر میں ظاہر کی گئی ہے


یہ بات بالکل درست ہے کہ زمین کا 70 فیصد رقبہ پانی سے ڈھکا ہوا ضرور ہے


لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کی پوری کمیت یا حجم کا 70 فیصد پانی پر مشتمل ہے درحقیقت سمندر زمین کی


بیرونی سطح پر ایک باریک سی تہہ کی مانند موجود ہیں جن کی اوسط گہرائی تقریباً 4 کلومیٹر ہے


 جبکہ زمین کا قطر تقریباً 12,756 کلومیٹر 


 اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ پانی زمین کے مقابلے میں بہت معمولی مقدار میں ہے


 اگر زمین پر موجود تمام پانی کو اکٹھا کر کے ایک گیند کی صورت میں دکھایا جائے


 تو اس کا قطر تقریباً 1400 کلومیٹرز ہی بنتا ہے


 جو زمین کے سائز کے سامنے ایک چھوٹے غبارے جیسا دکھائی دیتا ہے


اسی طرح زمین کی فضا بھی ایک نہایت باریک تہہ ہے جو ہمیں بڑی دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں زمین سے محض 100


 کلومیٹر کی بلندی تک ہی پھیلی ہوتی ہے اور اس کی 90 فیصد مقدار تو صرف 15 کلومیٹر کے اندر موجود ہوتی ہے


زمین کے کل حجم کے لحاظ سے، فضا کی موٹائی اتنی ہی ہے جتنی ایک سیب پر اس کا چھلکا فضا کی کل کمیت زمین کی مجموعی


 کمیت کا نہایت قلیل حصہ ہے، تقریباً ایک دس لاکھواں


لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ زمین پر موجود پانی اور فضا، جو بظاہر بہت زیادہ محسوس ہوتے ہیں


 حقیقت میں زمین کی مجموعی کمیت


 کے مقابلے میں نہایت محدود اور نازک ہیں 


اسی لیے ان قدرتی وسائل کی حفاظت اور قدر کرنا انسانیت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے 


Post a Comment

0 Comments