ADIL MALKO TV
وہ کہ ایک لامحدود سا دریا محبت کا
میرے تمام تر تفکرات کی نہریں
اسی میں جاکے ضم ہوتی ہیں
وہ کہ کوٸ ابر بہت مخصوص جزبوں کا
میں مثل بارش کے قطروں کے اسی میں مخفی رہتی ہوں
وہ کوٸ گل ِ شاداب چمن ِ حسن و جازبیت کا
میں اس کی خوشبوٶں کی مانند
بسی رہتی ہوں شام وسحر اس میں
وہ کسی شہر ِ شبستاں کی صورت جگمگاتا سا
میں اس سے ملحق شاہراہ ِ خاص سی ہر دم
گویا کہ وہ جب جس روپ میں چھوے میرے تخیل کو
میں بہر صورت اسی سے متصل ہو کے ہی شمار کی جاٶں

ہم نہ منصور، نہ سقراط مگر طے ہے کہ اب
سر پھروں میں کوئی ہم سا نہیں ہونے والا
میں بہت سوچ کے بگڑا ہوں، یہ حالت کی ہے
تیرے کہنے سے تو اچھا نہیں ہونے والا
ہم گزار آئے ہیں اس جسم کی قربت سو ہمیں
اب کسی چیز سے نشہ نہیں ہونے والا
جس کو تصویر دکھاتا ہوں یہی کہتا ہے
تیرا نقصان تو پورا نہیں ہونے والا
تُو یونہی وقت کو برباد کئیے جاتا ہے
زخم ہوں اور میں اچھا نہیں ہونے والا


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.