ADIL MALKO TV
ابدال (اٹک) غاروں کے مکین
قبل از تاريخ دور اور پتھر کے زمانے میں انسان غاروں میں رہتے تھے
اور اب بھی اِن پرانے غاروں کے
آثار پاکستان کے بعض علاقوں میں پائے جاتے ہیں
ليکن، ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال کے آس پاس ایسے غار موجود ہیں
جہاں آج بھي نہ صرف لوگ رہتے ہیں
بلکہ اِن میں بجلی اور پانی کی سہولیات بھی ميسر ہیں
ضلع اٹک کا علاقہ حسن ابدال اسلام آباد سے 40 کلومیٹر کی مسافت پر ہے
حسن ابدال سے ایک سڑک صوبہ خیبر پختون اور دوسری شاہراہ قراقرم ہزارہ ڈویژن
اور شمالی علاقہ جات کی طرف جاتی ہے
کیڈٹ کالج حسن ابدال کے بالکل سامنے چھوٹے بڑے دیہات ہیں
جہاں کے لوگوں نے مٹی کے ٹیلوں اور چھوٹے پہاڑوں کو کاٹ کر رہائش کیلئے غار بنا رکھے ہیں
ان غاروں کی تاریخ تقریباً دو سو سال پرانی ہے
علاقے میں وبائی مرض پھوٹنے پر ایک ہندو کالو شاہ نے 1876ء میں دو غار کھدوائے تھے
ایک غار میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ رہتا تھا
اور دوسرے میں اپنے مال مویشی رکھتا تھا
علاقے کا وہ واحد خاندان تھا، جو وبائی مرض سے محفوظ رہا تھا اور اس کے مویشی بھی محفوظ رہے تھے
حسن ابدال کے دیہات میں سینکڑوں خاندان غاروں میں رہتے ہیں
اس علاقے میں مٹی کے غار پہلی مرتبہ وبائی مرض سے بچاؤ کیلئے 1876ء میں بنائے گئے تھے
قیام پاکستان کے بعد 1950ء سے علاقے میں ان غاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے
اور 2010ء کے بعد یہ مقامی لوگوں میں انتہائی مقبول ہو گئے ہیں
حسن ابدال کے 84 دیہات کے مکین غاروں میں رہائش پذیر ہیں
قدرتی ماحول میں رہنے والے لوگ صحت کے بہت سے مسائل اور بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں
ہر خاندان نے اپنی ضرورت کے مطابق ان غاروں میں کمرے بنا رکھے ہیں
غاروں کے آگے کھلے میں صحن بھی موجود ہیں، جہاں کچن، باتھ روم اور ٹوائلٹ کی سہولتیں ہیں
مٹی کے ٹیلوں کی کٹائی کر کے بنائے گئے یہ غار انتہائی محفوظ ہیں
آج تک ان میں کوئی حادثہ نہیں ہوا اور قدرتی آفات کے دوران بھی یہ محفوظ رہے ہیں
#copy Adil


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.