The greens sag Punjabi Jag

ADIL MALKO TV

ساگ

https://youtu.be/8Iht1MNwN64

جاگ پنجابی جاگ

تیری پگ نوں لگ گیا ساگ

ساگ پراکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی سبزی ہے جو پتوں پر مشتمل ہوتی ہے  پراکرت سے اردو زبان میں آتے ہوئے لفظ ساگ کا جنسی صیغہ مذکر ہے

 اور یہ واحد کے طور پر مستعمل ہے اس لیے یہ اردو زبان کا لفظ بھی شمار کیا جاتا ہے

 اور پنجابی زبان میں بھی ساگ ہی سے جانا جاتا ہےساگ سب سے پہلے ایران میں دریافت ہوا اور سپناغ کے نام سے پکارا گیا

 اسی سے ملتا جلتا نام سپائنچ (Spinach) انگریزی میں پایاجاتا ہے جو پالک کے ساگ کے لیے مخصوس ہےساگ سبزی کی وہ قسم ہے جو صرف اور صرف پتوں پر مشتمل ہوتی ہے

 اور پکا کر کھائی جاتی ہے

 آئے  گاستمبر ختم ہونے کو ہے آگے اکتوبر سے نومبرمیں    

پہاڑوں پر خزاں اور پنجاب میں خزاں کے ساتھ ساتھ سبز بہار ہر
 طرف اپنے ڈیرے جمانے کو ہے جس کی لپیٹ میں سندھ بلوچستان پختونخواہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی رہیں گے
 وہ ایسی سبز بہار جو ہر طرف کھیتوں کھلیانوں سے پہاڑوں میدانوں سے ہوتی ہوٸی باورچی خانوں میں پھر دسترخوانوں میں ہانڈیوں چولہوں سے لیکر برتنوں سے ہوتی    ہوئی آپ کو اندر تک سبز کردے گی ناچاہتے یا چاہتے ہوۓ بھی آپ کو سبز ہونا پڑے گا جی ہاں آج کل ایک محاورہ بہت مشہور ہوا ہوا ہے کہ ہر گزرتا دن ہمیں ساگ کے قریب کر رہا ہے پنجاب کے ساتھ سارے ملک میں 
ساگ کا موسم چھا گیا ہے

https://youtu.be/U6TE91ENUh0


ہمارے ہاں تو اتنا پکتا تھا اور ہے کہ امی جان کو کہنا پڑتا تھا۔ امی جی ہن تے تنی وہ ہری ہو 

اس پتوں والی سبزی پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے

 اس سے جڑی بہت سی یادیں وابستہ ہیں فراز کیا خوب فرما گئے

ساگِ گندل میں ساگِ باتھو بھی شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے ساگیں جو ساگوں میں ملیں 

ساگ کو بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں اگر مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو شاید امہ کو فائدہ پہنچ سکے اسرا ئیل اگر ساگ کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنی قومی ڈش 

قرار دے دے تو سارا جھگڑا ہی منٹوں میں ختم ہو سکتا ہے

ذاتی طور پر مجھے ساگ بہت پسند ہے۔ اب تو کھا کھا کر میں خود ہلکے سبز رنگ کا دکھنے لگ گیا ہوں۔ ساگ کھاتے ہوئے گر بیچ میں مکھن کی ڈلی ڈال دی جائے تو نشہ دوبالا کرتا ہے

بچپن کی یادیں تازہ کروں تو بچپن میں مجھے ساگ پسند نہیں ہوا کرتا تھا

 اس وقت میں انتہائی ناشکرا بچہ تھا اب جو سوچوں تو کئی بار استغفار پڑھتا ہوں کہ میں ساگ کو ناپسند کیا کرتا تھا ۔ ماں جی نے جب ساگ بنانا تو میں نے روٹھ جانا

 ماں جی دو آپشنز دیا کرتیں۔ یا تو ساگ چپ چاپ کھا لوں یا پھر پہلے چھتر کھا لوں بعد میں ساگ مجھ میں تب عقل و شعور بھی نہیں تھا

لہذا ہر بار پہلے ماں سے چھتر کھاتا اس کے بعد روتے ہوئے ساگ

لڑکپن آیا تو مجھے جس سے پہلی نظر میں محبت ہوئی اس نے ساگ رنگ کا کرتہ پہن رکھا تھا اور سفید مکھن جیسی شلوار چلتی ہوٸی وہ کسی بانکی نار سے کم نہیں لگ رہی تھی

 میں نے اپنی بینگنی رنگی شرٹ پر سنہرے رنگ کا سویٹر پہن لیا

 مجھے گمان تھا کہ شاید میں مکئی کی روٹی جیسا لگوں گا جو ساگ بنا ادھوری اور ساگ اس بن بیوہ ہے۔ اس نے مڑ کے دیکھا، گھورا اور پھر گرم ساگ میں گھلتے مکھن کی مانند بہتے اپنی گاڑی میں جا بیٹھی یہ اس سے پہلی اور آخری ملاقات تھی

 نجانے اب وہ کہاں کس باتھو والے ساگ میں گھل رہی ہو گی

https://youtu.be/8Iht1MNwN64

ساگ میں ، کیلشیئم ، سوڈیم ، کلورین ، فاسفورس ، فولاد ، پروٹین

 ( جسم کو نشو و نما دینے والے اجزاء )

اور وٹامن اے ، بی اور ای کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں 

 ساگ کے بارے میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ساگ اور دودھ بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں اور ساگ جسم میں بڑی حد تک دودھ کی کمی پورا کرسکتے ہیں

 سرسوں کے پتّوں کے ساگ میں حیاتین ب ، کیلشیئم اور لوہے

 کے علاوہ گندھک بھی پوئی جاتی ہےاس کی غذائیت گوشت کے برابر ہے  یہ ساگ خون کے زہریلے مادّوں کو ختم کرکے خون صاف کرتا ہے

اب تو یوں ہے کہ ساگ میری پسندیدہ ترین ڈش ہے
 ساگ اور مکٸ کی روٹی ہو ساگ اور ابلے ہوۓ چاول ہوں ساگ یا چپاتی ہو بس مختصر یہ کے ساگ جیسا بھی ہو ساگ



Post a Comment

0 Comments