ADIL MALKO TV
ہم لوگ اس ملک کے آخری شہری ہیں جنہوں نے تانگوں میں سفر کیا
قینچی سائیکل چلائی‘ جن کی سائیکلوں کے کتے فیل ہوئے‘ جنہوں نے لالٹین اور مٹی کے تیل کے لیمپ دیکھے
زیرو کے بلب جلائے‘جنہوں نے نلکوں کے نیچے بیٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے غسل بھی فرمایا
نائیوں کے حمام میں نہانے کی لذت بھی لی۔
چکڑ چھولے بھی کھائے‘ ابے‘ تائے اور چاچے کی پھینٹی بھی کھائی
گرم دوپہروں میں چھتوں پر پتنگیں بھی اڑائیں اور ڈوریں بھی لوٹیں
آنا لائبریریوں سے کرائے پر ناول لے کر بھی پڑھے‘ لاؤڈ اسپیکروں پر اذانیں بھی دیں
گیارہویں شریف کا ختم بھی کرایا‘ دیسی شربت بھی بنائے‘ حکیموں کے مربے بھی کھائے
دودھ کی بالائی بھی چرائی
کریم رول بھی انجوائے کیے‘ چائے میں پاپے ڈبو کر بھی کھائے‘ ٹکٹ کے بغیر چھپ
کر ٹرینوں میں سفر بھی کیا۔
ویگنوں میں ککڑ بھی بنے‘ بسوں کی چھتوں پر بھی لیٹے‘ تھوک سے سلیٹیں بھی صاف کیں‘ تختیوں کے اوپر بیٹھ کر
تختیاں بھی سکھائیں‘ بنٹے بھی کھیلے اور
’’کھتی‘‘
میں پیشاب بھی کیا‘ اسکول میں مرغا بن کر ماسٹر کے چھتر بھی کھائے‘ بلیک اینڈ وائیٹ ٹی وی بھی دیکھا
چھت پر لٹک کر انٹینا بھی سیدھا کیا‘ ایکس چینج آپریٹر کو نمبر بتا کر فون بھی کیا‘ گھر میں چولہے کے
گرد بیٹھ کر کھانا بھی کھایا‘ ماں کو چکی پیستے اور لسی بناتے بھی دیکھا
دادا اور دادی کو حکیم کی معجون سے شفاء یاب ہوتے بھی دیکھا‘ چھوٹے بہن بھائیوں کو مولوی صاحب سے دم بھی کرایا
کھوتی کی سواری بھی کی‘ کرتے سے ناک بھی صاف کی اور ماں باپ کی مرضی سے شادی بھی کی
یہ تہذیب اب ختم ہو چکی ہے۔
ہم اس ملک کی آخری نسل ہیں جس نے ماں باپ کے حکم پر شادی کی تھی


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.