ADIL MALKO TV
N K اور D Z یہ دونوں بھاگ
کر شادی کرنے پر مجبور ہوئیں, دونوں کی عمریں کم تھی لیکن اتنا انتظار بھی نہیں ہو
سکا کہ آئی ڈی کارڈ تو بن جائے, لیکن نہیں جناب اُن سے رہا نا گیا.
ایک نے میں جا کر نکاح کیا
اور ایک نے? میں، چلو اچھا ہے نکاح تو کیا۔ لیکن ایسا ہوا کیوں کس نے مجبور کیا
ایسا کرنے پر اُس لڑکے نے جس سے وہ باتیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔؟
لیکن موبائل تو اُس
لڑکے نے لے کر نہیں دیا اور نا اُس لڑکے نے پستول سر پر
رکھ کر زبردستی بات کرنے کا
کہا پھر قصور کس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
میری نظر میں دو قسم کے لوگوں
کا قصور ہے۔
ایک ماں باپ جنہوں نے ایک
تو اتنی آزاد پرورش کی کہ اچھے اور برے کی تمیز ہی نہیں سکھائی اور موبائل دے کر
یہ پوچھنا ہی گوارہ نہیں کیا کہ آخر موبائل میں کرتی ہو تو کرتی کیا ہو کوئی خبر
نہیں رکھی وہ کیا دیکھتی رہی کیا نہیں کس کس سے باتیں کرتی رہی کیا باتیں کرتی رہی
یہ قصور ہی تھا کہ تم نے بیٹی کو بیٹا سمجھ لیا
دوسرا یہ میڈیا، جہاں
ڈراموں میں دیور کا تعلق بھابھی سے، سوسر کا تعلق بہو سے، بوس کا اپنی سیکریٹری کے
ساتھ اور پتہ نہیں کیا گند بلا، چائے کے اشتہار میں BF مطلب بے غیرت
فرینڈ اپنی GF مطلب غلیظ فرینڈ کے گھر
جاتا ہے چھپ کر صرف چائے پینے کے لئے، عاشقی معشوقی غیر اخلاقی سین یہ سب دیکھنے
کے بعد کیسے ایک نوجوان سے برداشت ہوگا ؟؟
ہمارے معاشرے کو
تباہ کرنے والے ایک آزاد خیال لوگ اور دوسرا یہ میڈیا ہے جو پیسوں کے لیے کچھ بھی
کرتے ہوں گے
کوئی بات بری لگے تو میں
معذرت چاہت ہوں لیکن آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں
کہ لوگ جانو مانو شانو بانو
ٹانو ۔۔
کے لیے تو ساری ساری رات
جاگ کر گزار سکتے ہیں لیکن اس بابرکت رمضان کے مہینے میں عبادت کی یہ چند راتیں
جاگ کر نہیں گزار سکتے افسوس کا مقام

0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.