ADIL MALKO TV
FOR EVER SEPLYMENTRY PRODUCTS' OF USA
وہی دریچہ۔۔
وہی کھڑکی سے نظر آتا ہوا
چاند
وہی عالم ِ تنہاٸی۔۔
اور کھلے ہوۓ بالوں میں ہم۔۔۔
سب کچھ ویسا ہی
جیسا کہ اکثر ہوا کرتا
تھا۔۔۔
ہاں مگر۔۔۔
اس دریچے کی دیوار پر
تمہاری پرچھاٸیں نہیں۔۔
میرے چہرے کو اس چاند سے
تشبیہ دیتے ہوۓ
تمہارے الفاظ نہیں
میرے بالوں کی لٹوں کو
اپنی پھونکوں سے اِدھر
اُدھر کرتے ہوۓ
تمہارے ہونٹ نہیں۔۔
میں تو آج بھی ہوں موجود
اسی مرکز ِ محبت پر۔۔
مگر افسوس۔۔۔
تم نہیں۔۔
تمہاری واپسی کے امکان
نہیں۔۔
گویا اب اس دریچے میں
میرے بہلنے کا ، ٹھہرنے کا
کوٸی سبب نہیں ، کوٸی سامان نہیں۔۔
مگر اب بھی ہر شام۔۔
میں یہاں چپ چاپ چلی آتی
ہوں۔۔
گزرے ہوۓ ان سارے حسیں لمحات
کو
یاد کرتی ہوں ۔۔۔یاد کر کے
چلی جاتی ہوں۔۔
ااور زیست کا ایک اور دن
سلیقے سے گزر جاتا ہے۔۔۔۔
ثمینہ یاسمین نقوی ۔ ۔ ۔


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.