ADIL MALKO TV
بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی
ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیج
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں
ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں
کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر
سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا
کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک
لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک
مانگنا شروع کر دیتا ہے
اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے
اپنی مزدوری کرے گا
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟
بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے
آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم مریض
مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں
صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل
صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے
!یاد رکھئے
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،
بلکہ بڑھتی ہے
خیرات دیں
منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی
....
باقی مرضی آپ کی


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.