ADILMALKOTV
میں مرد ہوں مجھے عورت کی برابری کے حقوق چاہیئے
میں جب بس میں سوار ہوں تو لڑکیاں مجھے دیکھ کر سیٹ چھوڑ دیں
میں جب بینک،ڈاکخانے یا کسی بھی دفتر میں جاوں تو لڑکیاں مجھے لائن کراس کر کے آگے جانے دیں
اور خود انیسویں نمبر سے شروع ہوں
جب کبھی پبلک میں میری کسی لڑکی سے لڑائی ہو جائے تو میرا حق ہے میں لڑکی کو وٹ وٹ چپیڑیں ماروں
اور لڑکی آگے سے ہاتھ نہ اٹھائےجیسے مرد سے توقع کی جاتی
میرا حق ہےمیں جیسے چاہوں کپڑے پہنوں لہذا اب سے میں سکن ٹائٹ انڈر وئیر میں گھوما کروں گا صرف
اور سنو اگر میرے باڈی کٹس یا کسی بھی عضو کی ظاہر ہوتی شبیہ کسی لڑکی کو بری لگی
تو یہ میرا قصور نہیں اس کے ذہن کی گندگی ہو گی
بائیک پنکچر ہونے پر لڑکا روڈ سائیڈ سٹاپ پر کھڑا ہو کے موبائل پر گیم کھیلے گااور لڑکی موٹر سائیکل کی
ٹینکی پر بیٹھ کے چلاتے ہوئے پنکچر لگوانے جائے گی
اور بالکل ایسے ہی پٹرول ختم ہونے پر لڑکا سٹیرنگ سنبھالے گا اور لڑکی کار کو دھکا لگائے گی
دیکھیے میں برابری کا قائل ہوں مجھے برابری کے حقوق دینے بھی ہیں خواتین کو میں انہیں اپنے سے کم نہیں سمجھتا
لہذا دسمبر کی سردی میں جب کسی لوکل بس میں سوار ہوتے ہوئے جگہ کم پر پڑ گئی تو میں بھاگ
کر سیٹ پر بیٹھ جاوں گا اور نبیلہ،شکیلہ صائمہ کھڑی ہوں گی
صبا،مہوش،صدف،عائشہ وغیرہ بس کے باہر لگے ہوئے پائپ کو پکڑ کر لٹکی ہوں گی
ربینہ،ارم،بشری،سدرہ وغیرہ بس کی چھت پر چڑھ کر بیٹھیں گیں،جہاں آگے سے آنی والی زور دار ہوا
میک اپ اکھاڑ پھینکے اور منہ میں گھس کر باگڑ بلا بنا دے
دیکھو اب بوڑھی بھی ہو گئی ہو تو پریشان نیئں ہونا جو وزنی کام نیئں کیا جاتا تو بس سائیکل پر کھلونے لادو
اور دیہاتوں میں نکل جاو بیچنے کے لیے صبح سے شام تک
ٹوٹی ہوئی جوتی پہنے چیتھڑوں سے دو کپڑے ڈالے سرد ٹھٹھرتی رات میں گرم انڈوں کا کولر اٹھاو
اور نکل جاو شہر کی سڑکوں پر آوازیں لگاتے ہوئےآنڈے گرم آنڈے
آفٹر آل آپ مرد سے کم تھوڑی ہیں

0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.