What is it like to marry an illiterate guar?

ADIL MALKO TV 

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی 

جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں 

میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا 

لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی 

مجھے عمر سے بدبو آتی تھی  

ان کا کام اتنا اچھا نہ تھا 

خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی تھی یا اللہ 

یا تو عمر کو مار دے یا پھر

 اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح 

وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا 

میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی 

تنقید کرتی عمر پہ غصہ کرتی  

کبھی چپ ہو جاتا 

کبھی غصہ ہو کر گھر سے باہر چلا جاتا 

میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے 

امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے نہ کرو ایسا 

بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے 

باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو 

لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی 

میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے 

امی ابو نے عمر کو بلوا لیا 

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا 

امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھائی 

تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے

عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا 

انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں 

میرے چاچا تایا سب موجود تھے وہاں 

میں بولی مجھے 50 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس 

اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ 

عمر خاموش ہو گیا 

سر جھکائے بیٹھا تھا 

چاچا بولے ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 50 ہزار 

کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا

لمبی سانس کی بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 50 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے 

میں نے دل کی گالی دی کمینے دیکھنا 

جینا حرام کر دوں گی تمہارا 

میں عمر کے ساتھ چلی گئی

 بجلی پانی گیس کا بل راشن کھانا سب اخراجات بھی تھا

عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں 

اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ انھوں نے بتایا 

خیر عمر مجھے ہر مہینے50 ہزار روپے دیتا 

ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو 

میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے 

عمر مسکرانے لگا 

میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی لے دوں گا پریشان نہ ہو

تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو

جو کہو گی کروں گا 

میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیا دہ نمک  

وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا

 کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا 

نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتبا تھک جاتا ہے 

میں جتنی نفرت کرتی تھی

 اس جاہل سے 

وہ اتنی محبت کرتا تھا 

 میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہے تھے

شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں 

جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو 

میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا 

میں بے جان ہو گئی 

وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی 

جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی تھی 

جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا 

جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا 

جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی 

جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی 

وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان 

بس پہ چڑھا رہا تھا 

ٹانگیں کانپ رہی تھی 

پرانے سے کپڑے پہنے 

پسینے سے شرابور 

پاوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 

فارس میں مر کیوں نہ گئی تھی 

وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا 

اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل

 یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کئ چھت پہ لوڈ کر 

عمر کو شاید بھوک لگی تھی 

ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا 

ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا 

میں قربان جاوں 

میرا عمر میرے لیئے کس درد سے گزر رہا تھا 

میں آنسو لیئے دیکھتی رہی 

کام ختم ہوا 

وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا

کتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں 

سارا دن وہاں درد سہنا رات کو میری باتیں 

فارس سر وہ حادثہ تھا 

یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا 

میں بن بتائے کچھ خریدے گھر واپس لوٹ گئی 

بہت روئی تھی بہت زیادہ 

عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایا 

عمر گھر آیا 

میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی

 خود گرم کر کے کھاتا تھا 

گھر آیا

مجھ سے سلام کیا کچن میں گیا 

پلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا 

ایک سال بعد پلاو کھانے لگا ہوں 

فارس سر کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے

 میں عمر کی طرف دیکھے جا رہی تھی 

عمر کتنا درد سہتا ہے اور بتاتا بھی نہیں 

میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں 

عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا 

دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں 

عمر نے کھانا کھایا 

پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 50 ہزار 

میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمر کے پاوں چوم لیئے 

عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے 

مجھے یہ پیسے نہیں چاہئے 

عمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے 

عمر نے میرا ہاتھ تھاما بولے 

اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا 

کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم 

پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو گی خدا جانے 

بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اسلیئے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا 

میں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھے 

نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر گاڑی 

مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا 

ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی 

بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں 

کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا 

جس میں نے عمر کا دیکھا تھا 

خدا کی قسم ہم ایک سانس نہ لے سکیں

اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے 

جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو 

پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا 

خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا

جس سکون عمر کی بانہوں میں آتا ہے 

جو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون 

عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے 

ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی 

دیکھ تو سہی 

آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی 

عمر اب میری زندگی ہے 

اور میں عمر کی شہزادی  

شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے یہ پڑھ کر 

 

Post a Comment

0 Comments