ADILMALKOTV
تمہارا ہجر جب بھی کبھی
بہت شدت کے ساتھ
میرے اعصاب پر طاری ہونے لگتا ہے
میں تمہاری قربت کو فرض کرتا ہوں
کبھی ایسے کبھی ویسے
کبھی اپنے پاس محفوظ تمہاری آواز کو سننے لگتا ہوں
کبھی تمہاری بے شمار تصویروں کو
ان بارہا دیکھی ہوٸ تصویروں کو
پھر بار بار دیکھنے لگتا ہوں
اور پھر جب ہجر کی تپش
برداشت نہیں ہو پاتی تب
ایک کاغز پر
تمہاری اور اپنی شکل بناکر
اس میں تمہارے چہرے کو
اپنے چہرے کے بالکل قریب تر کر کے
تمہیں اپنے اتنا ہی پاس تصور کر کے
بے چین ہوتے دل کو سنبھالتا ہوں
تو تمہیں ایسے ہی بہت سے کاغز
میرے کمرے میں ملیں گے
جو در حقیقت میرے اور تمہارے وصل کے
کاغزی تخیلی تحملی شاہکار ہیں
جو در اصل میری ان وحشتوں کی پکار ہیں
جو مجھے میرے بخت نے سونپ دی ہیں
کہ مجھ سے تمہارا ہجر گوارا کبھی ہوا ہی نہیں
ثمینہ یاسمین نقوی

0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.