That is a dark history of the | year 1947

ADIL MALKO TV

https://youtu.be/_7c4HmDleMA

That is a dark history of the year 47

ہاۓ وہ تعلق  آہنی کہ جنہیں اب  کھا  بھی چکے
وہ  تمام فرسودہ رسم  روایات کے گھن
عشق کے وہ قیمتی  و نایاب دیوان  سبھی
کہ جنہیں  آہستہ آہستہ دیمک ہجر چاٹ گئی
سنہ47 کی وہ ایک تاریخ سیاہ کہ جب
کاغز پہ کھینچ گئی وہ ایک سرخ رنگ لکیر
کوئی تعداد  نہ حساب نہ کوئی اعداد و شار
ہاں وہ ایک لکیر کتنی شہ رگیں کاٹ گئی
ایسی کچھ   دلسوز  داستانیں  کہ جو 
نہ تو کہیں لکھی گئی 
اور نہ کبھی سنائی گئی
کہانیاں  وہ  انتہاۓ صبر و ضبط کی جو
نہ جانے کتنی ہی  پرتوں  میں دبائی چھپائی گیں
وہ سارے مسافران راہ وفا کہ جنہیں
جہاں پہنچنا تھا ، جہاں جانا تھا ، وہاں جا نہ سکے
قافلے عشق کے  جو بھٹکتے رہے اور بھٹکا ئے
چاہ کر بھی کبھی اپنی منزل مقصود کو پا نہ سکے
کنی بے چین سی کچھ بے ضرر  روحیں ہیں کہ جو
آج بھی ، اب بھی  ویسی ہی بے چین پھرا کرتی ہیں
گرد و پیش  اپنی قبر گاہوں کے تو کبھی زندانوں کے
جانے کیا ڈھونڈتی ہوئی بس طواف کیا کرتی ہیں
وہ جنہیں رفعتیں  مطلوب تھیں بلندیاں  چاہتے تھے
زندہ  درگور  وہ کہائیں  جاتے  رہے عجب پستی میں
سامنے جن کے جلاۓ گئےنشیمن وہ محبت والے
 وہ  کہ جو پھونک ڈالے گۓ  خوابوں کی کسی بستی میں
ہم بھی اب قائم ودائم  ہیں دل و جان و روح تک سے
 انہیں محبت کے خداؤں کی وضع داری  پر
ہم بھی رکھتے ہیں بضض و محبت  کی جنگ میں تیار
وہی مضبوط  ارادے ، وہی مخصوص تیغ و سپر
ان پست ذہنوں کو انہیں کی زبانوں میں جواب دیتے ہیں
بس اے محبت 
تیری سر فرازی کا حلف لیتے ہیں
 
 ثمینہ یاسمین نقوی

Post a Comment

0 Comments