ADIL MALKO TV
That is a dark history of the year 47
ہاۓ وہ تعلق آہنی کہ جنہیں اب کھا بھی چکےوہ تمام فرسودہ رسم روایات کے گھنعشق کے وہ قیمتی و نایاب دیوان سبھیکہ جنہیں آہستہ آہستہ دیمک ہجر چاٹ گئیسنہ47 کی وہ ایک تاریخ سیاہ کہ جبکاغز پہ کھینچ گئی وہ ایک سرخ رنگ لکیرکوئی تعداد نہ حساب نہ کوئی اعداد و شارہاں وہ ایک لکیر کتنی شہ رگیں کاٹ گئیایسی کچھ دلسوز داستانیں کہ جونہ تو کہیں لکھی گئیاور نہ کبھی سنائی گئیکہانیاں وہ انتہاۓ صبر و ضبط کی جونہ جانے کتنی ہی پرتوں میں دبائی چھپائی گیںوہ سارے مسافران راہ وفا کہ جنہیںجہاں پہنچنا تھا ، جہاں جانا تھا ، وہاں جا نہ سکےقافلے عشق کے جو بھٹکتے رہے اور بھٹکا ئےچاہ کر بھی کبھی اپنی منزل مقصود کو پا نہ سکےکنی بے چین سی کچھ بے ضرر روحیں ہیں کہ جوآج بھی ، اب بھی ویسی ہی بے چین پھرا کرتی ہیںگرد و پیش اپنی قبر گاہوں کے تو کبھی زندانوں کےجانے کیا ڈھونڈتی ہوئی بس طواف کیا کرتی ہیںوہ جنہیں رفعتیں مطلوب تھیں بلندیاں چاہتے تھےزندہ درگور وہ کہائیں جاتے رہے عجب پستی میںسامنے جن کے جلاۓ گئےنشیمن وہ محبت والےوہ کہ جو پھونک ڈالے گۓ خوابوں کی کسی بستی میںہم بھی اب قائم ودائم ہیں دل و جان و روح تک سےانہیں محبت کے خداؤں کی وضع داری پرہم بھی رکھتے ہیں بضض و محبت کی جنگ میں تیاروہی مضبوط ارادے ، وہی مخصوص تیغ و سپران پست ذہنوں کو انہیں کی زبانوں میں جواب دیتے ہیںبس اے محبتتیری سر فرازی کا حلف لیتے ہیںثمینہ یاسمین نقوی


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.