Adil Malko Tv
ابھی تو چمن ِ دل میں ہیں جابجا
بہار رُت کے حسین سلسلے
ابھی سے کیوں خاٸف ہے یہ دل
خزاں کے تنند تصورات سے
ابھی آنکھوں کے تشنہ کوزوں کو تیرے
اسکی دید کے آبشار میسر تو ہیں
ابھی تیری سماعتوں کی بزم ِ طرب کو بھی
اسکی آواز کے ستار میسر تو ہیں
یہ فصل ِ حصول ِ ہمنشیں
گر چہ ہے مختصر پر ملی تو ہے
شاخ ِ آرزو پہ تکمیل کی
کوٸ نرم و نازک کلی کھلی تو ہے
تیرے صحرا صفت دل کو آخرش
ہوٸ تو ہیں عطا شدید بارشیں
کہیں کسی جا تو ٹھہر پائی ہیںتیرے سیارہ ِ بخت کی گردشیں
تو اب اس تخیلاتی وصال کی مدت کو ہی
تو اپنی عمر ِ کُل کا ماحصل سمجھ
بقیہ تمام ماہ و سال راٸگاں
اسی عرصہ ِمختصر کو اصل سمجھ
اس حیات کے ان کچھ دنوں سے تو
تمام عرق ِ زندگی نچوڑ لے
اس کے خلوص کی کرم فرما ردا
اپنے سر سے پاٶں تک اوڑھ لے
اسکے ساتھ کی تمام ساعتیں
اپنی زندگی میں شمار کر
اور جس روز وہ کہہ دے الوداع
کہیں رکھ دینا لباس ِ جاں اتار کر
ثمینہ یاسمین نقوی


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.