Adil Malko Tv
تمہیں یاد ہے کیا؟
سرد راتوں میں دسمبر کی۔۔
جب تم نے اپنا گرم ہاتھ
میرے سرد ہوتے ہاتھ پہ رکھا تھا
اور اپنی بادامی شال۔۔
میرے بدن پہ لپیٹتے ہوۓ
بڑی محبت سے کہا تھا۔۔
میری جاں۔۔
بہت سرد دسمبر ہے۔۔
خود کو سنبھال کر رکھو۔۔
یہ دسمبر کہیں تم کو
کوٸ
ضرر نہ پہونچا دے۔۔
مگر دیکھو۔۔۔
اب اس دسمبر میں
جب تم بیزار ہو چکے ہو مجھ سے۔۔
میری فکر سے یکسر لا تعلق ہو۔۔
تو اب میں۔۔
سارا دسمبر یونہی ۔
گزاروں گی۔۔
خود سے بے پرواہ ہوکر۔۔
خود کو اذیتیں دے کر۔۔
یہ بھی جانتی ہوں میں۔۔
میری اس بات سے تمہیں اب
کوئی بھی فرق نہیں پڑتا
مگر اس طور سے میرے۔۔
یہ تو عین ممکن ہے نہ۔۔
کہ میں اگلے برس کا دسمبر دیکھ نہ پاوں
اور یہ سال گزرتے ، گزرتے۔۔
شاید خود بھی گزر جاٶں۔۔
کہ اب تو تمہیں میرا نام بھی۔۔
سننا ، پڑھنا یا لکھنا
اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
تو بہتر ہے کہ یہ دسمبر ۔۔۔
مجھے اپنے ساتھ لے جائے
ثمینہ یاسمین نقوی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.