ADIL MALKO TV
آٶ کبھی میرے خلوت کدے میں
کچھ وقت گزارو تو شاید۔۔
تم باخبر ہو سکو۔۔۔
میرے ان دکھوں سے بھی۔۔
جو ابھی تک۔۔
میری تحریر کی حد میں نہیں آئے۔۔۔
وہ سارے زخم ۔۔۔
جو دل کی دیواروں پہ تو ثبت ہوئے
لیکن۔۔۔۔
قلم کی نوک پر نہیں ٹھہرے۔۔۔۔
اور تمہیں بتاٶں۔۔۔
کہ میں اپنے یہ ناسور ۔۔۔
رقم کرنے سے کیوں قاصر ہوں ؟
فقط اس وجہ سے۔۔
کہ اگر جو میں نے۔۔۔
ان سب اذیتوں کو۔۔
کسی نظم میں ڈھال دیا
تو شاید میرے اپنے بھی
مجھ سے خفا ہو جائیں۔۔
شاید میرا کوٸ انکشاف
ان کے مزاج کو گراں گزرے
اور کیا پتہ کہ میرے درد
انکے لٸیے بے حد غیر اہم سے ہوں۔۔
کہ کیا پتہ وہ اسے پڑھ بھی لیں
اور بس یہ کہہ کر آگے بڑھ جاٸیں۔۔
کہ یہ تو ایسی ہی پاگل ہے
کسی کے تیز لہجے سے بھی ڈر جاتی ہے۔۔۔
راتوں کو نیند سے چونک پڑتی ہے
تو اس سے بعید بھی کیا ہے
جو ذہن میں آ جاۓ لکھ دیگی۔۔
مگر کوٸ یہ ہرگز نہں سوچے گا
ایک لمحے کو بھی نہیں۔۔۔
کہ اس نے کیوں لکھا یہ سب ؟
یہ بظاہر مظبوط سی دکھنے والی
ایک ٹھیک ٹھاک عمر کو پہونچی ہوٸ لڑکی۔۔۔
کیوں اندھیروں سے ڈرتی ہے ؟
کیوں اچانک گھبرا سی اٹھتی ہے؟
ثمینہ یاسمین نقوی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.