ADIL MALKO TV
وفا کی کشتیوں پہ
سفر کر کے
جزیرہ ِٕ عشق تک جانا
اور وہاں پھر
اپنا خیمہ ِ ذات نسب کر کے
مکمل فراموشی ِ وجود سمیت
اچھے برے سبھی موسموں کو
خود پر جھیلتے رہنا
یہ چاہت والوں کا قرینہ ہے
اور زمانے بھر کی بے وجہ سی باتوں کے
طوفانی تھپیڑوں میں
ایک آہنی دیوار ہوکر
کھڑے رہنا
سہےجانا
ارادوں میں پختگی رکھنا
اور اپنے دعویٰ عشق سے
کبھی دست بردار نہ ہونا
الفت والوں کا قرینہ ہے
اور مجھ کو ناز ہے کہ میں نے
اسے ایسا ہی پایا ہے
اور یقیں اس بات کا بھی ہے
کہ وہ ساری عمر اسی قرینے پر
قائم ودائم رہیگا
کہ وفا کی یہ حسیں کشتی
ہم دونوں نے خلوص نییت سے بنا ئی ہے
اس جزیرہ ِ محبت تک جانے کی
یہ سواری بے لوث محبت سے بناٸ ہے۔۔
تو اس کشتی میں ہرگز
بے
یقینی و بے وفائی کے سراخیں
یہ ناممکن ہے کبھی ہو جائے
ثمینہ یاسمین نقوی

.jpg)
0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.