ہم نہ منصور، نہ سقراط مگر طے ہے کہ اب سر پھروں میں کوئی ہم سا نہیں ہونے والا میں بہت سوچ کے بگڑا ہوں، یہ حالت کی ہے تیرے کہنے سے تو اچھا نہیں ہونے والا ہم گزار آئے ہیں اس جسم کی قربت سو ہمیں اب کسی چیز سے نشہ نہیں ہونے والا جس کو تصویر دکھاتا ہوں، یہی کہتا ہے تیرا نقصان تو پورا نہیں ہونے والا تُو یونہی وقت کو برباد کئیے جاتا ہے زخم ہوں اور میں اچھا نہیں ہونے والا
0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.