ADILMALKOTV

ہجرت بہت مجبور ہوکر کی جاتی ہے عادل!
چاہے گھر سے کی جائے یاپھر کسی کے دل سے فیس بک پر ایک انجان بھائی کی تصویر دیکھی
سفر پر روانہ ہونے سے پہلے کچھ لوگ مذاق اڑا رہے تھے تو میرے بھی انکھوں میں آنسو آ گئے
اور اپنے دن یاد آگئے جو اس وقت بھی میں اپنے 3 سال سے پردیس میں گزار رہا ہوں
سب کچھ سامنے آ گیا میرے دل کا درد کسی نے دیکھا ہے
ہمیں تو تڑپتے صرف رب نے دیکھا ہےہم تنہائی ہی میں بیٹھ کر روتے ہیں
لوگوں نے تو بس ہمیں اکثر ہنستے دیکھا ہے
پرانے زمانے میں جب لوگ کراچی جاکر محنت مزدوری کے لئے جاتے تھے پھر خلیج ممالک
سعودی اور دوبئ ہم اتنے بڑے پیمانے پر چلے گئے کہ سب کو اپنے بیٹے کے شناختی کارڈ کی فکر تھی
تاکہ کارڈ بن جائے اور سفر پر روانہ ہوجائےاور تعلیم کو ہم نے بہت پیچھے چھوڑ دیا
خیلج ممالک کے حالات خراب ہونے کیوجہ سے لوگوں نے پھر سے تعلیم پر توجہ دینا شروع کیا
ماشاءاللہ نوجوانوں نے بڑی بڑی ڈگریاں اور اعلی تعلیم حاصل کی لیکن افسوس ہمارے
ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے پاکستان میں کچھ بھی نہیں اور
وہ بھی بیرون ملک حلال رزق کمانے کے لئے قطاروں میں کھڑے پاسپورٹ بنوا رہے ہیں اور روانہ ہیں
جس بندے نے مسافری کی ہوں انکو ان
سب باتوں کا علم ہوتا ہے۔
گھر کیا جاتے عمر ہی کٹ گئ اڑتے اڑتے رستے میںجوانی بیچ کر خواب خریدنے نکلے تھے سستے میں
پردیس میں رہنے والا بندہ اس وقت مرجاتا ہے جب ماں باپ فون پر کہے بیٹا
پیسے نہ بیجھنا اگر تجھے ٹائم ملے تو گھر کا چکر لگا جا سانس کا کیا بھروسہ یہ دور دیس میں رہنے والے
دھوپ میں جھلستے رہتے ہیں خود بھوکے رہتے ہیں،اپنوں کو بھرتے رہتے ہیں
یہ دور سے تم کو خوش دکھائ دیتے ہیںان سے جب تم فرمائش کرو اک بات تم ذرا سوچنا
یہ گھر سے دور اپنوں سے دور اپنے درد چھپاتے ہیںان کے دکھ درد کو سمجھو تم وہ تم کو سکھ پہنچاتے ہیں
محنت سب لوگ مل کر نہیں کرتے وہ کوئی ایک
کرتا ہے مگر اس کا پھل پھرسب ملکرکھاتے ہیں۔
اللہ تعالی پاکستان کو اتنا امیر کردے کہ کسی ماں کا بیٹا کسی بیوی کا شوہر کسی بچے کا باپ
کسی بہن کا بھائی مسافر پردیسی نہ بنے.

0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.