Every house has its own story.

ADILMALKOTV

بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی
www.adilmalkotv.blogspot.com
ابو یا امی جاتے ہیں
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے اور تمہاری ماں
ہم سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے
کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں
مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں
اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں
سب ماں چپ رہی
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری
بہن کچھ نہ بولی
4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ آو
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں
پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا ہو رہا تھا تو
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا
بہن سامنے بیٹھی تھی
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں بہن کو حصہ نہیں دوں گا
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی
وہ بیچاری خاموش تھی
بڑابھای علدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا
بہت پریشان تھا میں
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ
بھوک سر پہ تھی
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ
اس وقت وہی بہن گھر آگئی
میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس
میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے
بیوی میرے پاس آئی
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے
پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی
بھائی پریشان ہو
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری
گود میں کھیلتے رہے ہو
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو
پھر میرے قریب ہوئی
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے
آہستہ سے بولی
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر
بیٹے کا علاج کروا
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم ہے
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے
شاید اس کی جمع پونجی تھی
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر
جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے
وہ جلدی سے جانے لگی
اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی
بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں کر سکتیں
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا
اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے
بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں

Post a Comment

0 Comments