ADIL MALKO TV
دنیا کا گندہ ترین دریا
بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس کی
لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے
بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت
سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا
بعد
ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے
اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں
جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں
بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے
جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے
لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد
لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں
جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں
بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں
ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ہے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے
کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں
اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ہے
بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں
جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ہے
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ
کہیں لاش
جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے
ہوتے ہیں
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ہے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں
اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں
ہر طرف
راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ہے
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے
اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے
جیسے اس کا
بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے
copy past



0 Comments
Please do not enter any spam words or link in the comment box.