Allah has chosen the path to the grave for man

ADIL MALKO TV

دنیا کا گندہ ترین دریا 

بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ

ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس کی

 لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے

بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت 

سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا

 بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے 


 www.adilmalkotv.blogspot.com/

اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں

 جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں

 بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے

 جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے

 لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد

 لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں 

جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں 

 بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں

 ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ہے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے

 کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں

 اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ہے  

بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں

 جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ہے 

 لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ

کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں

 رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ہے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں

 اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں

 ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ہے 

الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور پاکیزگی ہمارا ایمان ہے 

اللہ نے انسان کے لئے قبر کا وہ راستہ منتخب کیا ہے 

جیسے اس کا بھرم بھی رہ جائے اور اس کی پاکیزگی بھی برقرار رہے

 

www.adilmalkotv.blogspot.com/

               copy past

 

Post a Comment

0 Comments